Wednesday, 3 March 2021

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا

وہ کہیں بھی تو کامراں نہ رہا

اس طرح کچھ بدل گئی ہے زمیں

ہم کو اب خوف آسماں نہ رہا

جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیں

کیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا

ایسی بے گانگی نہیں دیکھی

اب کسی کا کوئی یہاں نہ رہا

ہر جگہ بجلیوں کی یورش ہے

کیا کہیں اپنا آشیاں نہ رہا

مفلسی کیا گِلہ کریں تجھ سے

ساتھ تیرا کہاں کہاں نہ رہا

حسرتیں بڑھ کے چومتی ہیں قدم

منزلوں کا کوئی نشاں نہ رہا

خونِ دل اپنا جل رہا ہے مگر

شمع کے سر پہ وہ دھواں نہ رہا

غم نہیں ہم تباہ ہو کے رہے

حادثہ بھی تو ناگہاں نہ رہا

قافلے خود سنبھل سنبھل کے بڑھے

جب کوئی میرِ کارواں نہ رہا


باقر مہدی

No comments:

Post a Comment