Friday, 12 March 2021

محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے

 محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے

دل کو اپنے لاکھ سمجھایا کیے

یاس کی گہرائیوں میں ڈوب کر

زخمِ دل سے خود کو بہلایا کیے

تشنگی میں یاس و حسرت کے چراغ

غم کدے میں اپنے جل جایا کیے

خود فریبی کا یہ عالم تھا کہ ہم

آئینہ دنیا کو دکھلایا کیے

خون دل عنوان ہستی بن گیا

ہم تو اپنے ساز پر گایا کیے


باقر مہدی

No comments:

Post a Comment