Friday, 12 March 2021

پرانے خوف طاری ہو رہے ہیں

 پُرانے خوف طاری ہو رہے ہیں 

نئے فرمان جاری ہو رہے ہیں 

کبھی تھے لازمی مضموں وفا کے 

مگر اب اختیاری ہو رہے ہیں 

بہت خالی گئے تھے دوستوں کے 

مگر کچھ وار کاری ہو رہے ہیں

کبھی میٹھے تھے جو میری زمیں کے 

وہ پانی آج کھاری ہو رہے ہیں


ناصرہ زبیری

No comments:

Post a Comment