درد کا سمندر ہے صرف پار ہونے تک
عشق کی حقیقت کے آشکار ہونے تک
روز و شب کی گردش میں محوِ رقص رہتے ہیں
خاک کے بگولے ہیں بس غبار ہونے تک
زندگی کے لہجے کو ایک عمر لگتی ہے
دھوپ کی تمازت سے سایہ دار ہونے تک
اجنبی مسافر تھے ہمسفر رہے پھر بھی
اک گریز حائل تھا اعتبار ہونے تک
پانیوں کے سینے پر آج بھی سفینے ہیں
سر پھری ہواؤں کے سازگار ہونے تک
کتنی موجیں ڈوبیں گی ساحلوں کے دامن میں
قربتوں کی کوشش میں راز دار ہونے تک
تھا کمال کوزہ گر، ڈھالتا رہا مجھ کو
ہاں فرح لگے برسوں شاہکار ہونے تک
فرح اقبال
No comments:
Post a Comment