Friday, 12 March 2021

آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں

 آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں

جب قریب آتے ہو خود سے دور ہو جاتا ہوں میں

دار پر چڑھ کر کبھی منصور ہو جاتا ہوں میں

طور پر جا کر کلیمِ طور ہو جاتا ہوں میں

یوں کسی سے اپنے غم کی داستاں کہتا نہیں

پوچھتے ہیں وہ تو پھر مجبور ہو جاتا ہوں میں

اپنی فطرت کیا کہوں اپنی طبیعت کیا کہوں؟

دوسروں کے غم میں بھی رنجور ہو جاتا ہوں میں

مجھ کو آتش بادہ و ساغر سے ہو کیا واسطہ؟

ان کی آنکھیں دیکھ کر مخمور ہو جاتا ہوں میں​


آتش بہاولپوری

دیوی دیال

No comments:

Post a Comment