عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا
خلوص کا اک زجاج زہراؑ
وفا، حیا کا سراج زہرا
عفیف تم، خیر بھی مجسم
ہو صبر کا امتزاج زہرا
عطا، کرم، جود، مہربانی
رہا تمہارا رواج زہرا
تمہی ہو خاتونِ خلد بے شک
ہو نیک خو، خوش مزاج زہرا
دیا ہے درسِ وفا جہاں کو
“حیا کے ماتھے کا تاج زہرا “
ہو لاڈلی مصطفیٰ کی لیکن
کیا ہے خود کام کاج زہرا
جو زخمِ نسواں تھے ان سبھی کا
کیا ہے تم نے علاج زہرا
نہیں ہے تمثیل اس کی ممکن
جو تم نے پایا ہے داج زہرا
غنا مثالی رہی تمہاری
نہ تھی کوئی احتیاج، زہرا
عجب ہے رتبہ، نبیؐ ہیں والد
علیؑ بھی ہیں سر کا تاج زہرا
معاشرے میں مثال تم ہو
بدل کے رکھا سماج زہرا
تمہاری تعلیم کی جہاں کو
ہے آج بھی احتیاج زہرا
رہے گا تا حشر، سب کے دل پر
فقط تمہارا ہی راج زہرا
ہو نیک سیرت بھی، پارسا بھی
تمہی ہو عصمت کی لاج زہرا
تمہارے اوصاف کا سبھی کے
دلوں پہ ہے اندراج زہرا
کرے ہے انور بھی پیشِ خدمت
عقیدتوں کا خراج زہرا
ریاض انور
No comments:
Post a Comment