عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہے آرزو ہو زیارت مجھے مدینے کی
کروں میں سجدے زمیں پر کبھی مدینے کی
پڑھوں گا روضۂ انورؐ پہ جب درود کبھی
خوشی ملے گی مجھے پھر سبھی مدینے کی
خدا! تُو دے دے مجھے حاضری سعادت کی
میں دیکھوں شام و سحر بھی کبھی مدینے کی
تُو اتنا لکھ دے خدا! میری سوئی قسمت میں
یہ دم جو نکلے تو ہو پھر گلی مدینے کی
میں تو اَٹا ہوا ہوں دُھول میں گناہوں کی
لگے مجھے وہ مبارک ہوا مدینے کی
تنزیل افق
No comments:
Post a Comment