Thursday, 24 March 2022

رہیں گے شاد نہ رنج و ملال دیکھیں گے

 رہیں گے شاد نہ رنج و ملال دیکھیں گے

یہاں جو لوگ رہِ اعتدال دیکھیں گے

قدم قدم پہ جو رستے کا حال دیکھیں گے

وہ چند گام ہے چلنا محال، دیکھیں گے

وہ نفرتوں کا یقیناً مآل دیکھیں گے

جھلستا باغ کو شعلہ مقال دیکھیں گے

وہ کیسے جیتیں گے اس زندگی کی جنگ بھلا

ہتھیلیوں میں جو قسمت کا حال دیکھیں گے

جو اپنا کام عبادت سمجھ کے کرتے ہیں

وہ اپنے فن کا یقیناً کمال دیکھیں گے

نہ لیں گے چین عمل پر یقین ہے جن کا

وہ دن نہ رات، نہ پھر ماہ و سال دیکھیں گے

شناوروں کو طلب گوہروں کی ہو انور

سمندروں کی تہوں کو کھنگال دیکھیں گے


ریاض انور

No comments:

Post a Comment