کون ہے میرا خریدار نہیں دیکھتا میں
یعنی بازار میں معیار نہیں دیکھتا میں
خواب آنکھوں میں چلے آتے ہیں آنسو بن کر
اس لیے تجھ کو لگاتار نہیں دیکھتا میں
تیرا اس بار مجھے دیکھنا بنتا ہے دوست
اتنی امید سے ہر بار نہیں دیکھتا میں
کب تلک تجھ کو یوں ہی دیکھتے رہنا ہو گا
زندگی جا تجھے اس بار نہیں دیکھتا میں
انعام عازمی
No comments:
Post a Comment