Sunday, 4 April 2021

کون ہے میرا خریدار نہیں دیکھتا میں

 کون ہے میرا خریدار نہیں دیکھتا میں

یعنی بازار میں معیار نہیں دیکھتا میں

خواب آنکھوں میں چلے آتے ہیں آنسو بن کر

اس لیے تجھ کو لگاتار نہیں دیکھتا میں

تیرا اس بار مجھے دیکھنا بنتا ہے دوست

اتنی امید سے ہر بار نہیں دیکھتا میں

کب تلک تجھ کو یوں ہی دیکھتے رہنا ہو گا

زندگی جا تجھے اس بار نہیں دیکھتا میں


انعام عازمی

No comments:

Post a Comment