Sunday, 4 April 2021

لوگ کہتے ہیں یہاں ایک حسیں رہتا تھا

 لوگ کہتے ہیں یہاں ایک حسیں رہتا تھا

سر آئینہ کوئی ماہ جبیں رہتا تھا

وہ بھی کیا دن تھے کہ بر دوش ہوا تھے ہم بھی

آسمانوں پہ کوئی خاک نشیں رہتا تھا

میں اسے ڈھونڈتا پھرتا تھا بیابانوں میں

وہ خزانے کی طرح زیر زمیں رہتا تھا

پھر بھی کیوں اس سے ملاقات نہ ہونے پائی

میں جہاں رہتا تھا وہ بھی تو وہیں رہتا تھا

جانے فاروق وہ کیا شہر تھا جس کے اندر

ایک ڈر تھا کہ مکینوں میں مکیں رہتا تھا


زبیر فاروق

No comments:

Post a Comment