Saturday, 3 April 2021

مجھے ورثے میں ملا تھا سو پیارا تھا دکھ

 مجھے ورثے میں ملا تھا، سو پیارا تھا دُکھ

یعنی میں نے بھی خوشی سے ہی گزارا تھا دکھ

یار! میں نے کسی کے شہر سے جاتے ہوئے

اپنے سامان میں رکھا جو خسارہ تھا دکھ

مجھے بچپن سے ہی ادراک تھا اس رمز کا دوست

میری آنکھوں میں چمکتا ہوا تارا تھا دکھ

پہلے تصویر بنائی مِری بے رنگ اس نے

پھر قلم کار نے کاغذ پہ اتارا تھا دکھ

اس قبیلے کی کہانی نا سناؤں میں تجھے؟

جہاں لوگوں کو دل و جان سے پیارا تھا دکھ

باپ کی ساکھ بچا لی تھی مگر رخصتی میں

اس پری زاد نے ماتھے پہ سنوارا تھا دکھ

بھوک سے روتے ہوئے بچے نے جب دیکھا مجھے

یاد آیا کبھی میں نے بھی گزارا تھا دکھ

جب یقیں تک نہ کِیا میرا کسی نے تو رند

میں پکارا کہ سنو لوگو! خدارا، تھا دکھ


دانیال رند 

No comments:

Post a Comment