Saturday, 3 April 2021

زخمی زخمی اندر میرا

 زخمی زخمی اندر میرا

ٹوٹا مجھ میں خنجر میرا

میرا آئینہ ہے زد پر

میرے ہاتھ میں پتھر میرا

اوڑھوں تن پر جلتا سورج

تپتا صحرا بستر میرا

ساحل ساحل تیری یادیں

تیرے نام سمندر میرا

تعبیروں نے خواب جلائے

عابد! دیکھ مقدر میرا


عابد عباس کاظمی

No comments:

Post a Comment