عکس کی مانند پہلے بے صدا رکھا گیا
پھر میرے ہونٹوں پہ حرفِ مُدعا رکھا گیا
رات بھر لڑتی رہی آندھی ہوا سے روشنی
تُند طُوفان کے مقابل اک دِیا رکھا گیا
ہو رہی تھی روشنی میں روشنی حل کس لیے
آئینے کے سامنے کیوں آئینہ رکھا گیا
میرے ہاتھوں سے میرے سارے کھلونے چھین کر
ایک بچے کی طرح مجھ کو خفا رکھا گیا
اُڑ رہی تھی ایک تنہا کُونج کس لیے
ہجر کے دُکھ میں اسے کیوں مُبتلا رکھا گیا
سورج نرائن
No comments:
Post a Comment