اس کو کیسے یاری اچھی لگتی ہو
جس کو ہر شے وقتی اچھی لگتی ہو
آدھے پورے چاند کو اس نے کیا کرنا
جس کو ان کی کھڑکی اچھی لگتی ہو
یوں تو تم میں ایک بھی اچھی بات نہیں
لیکن پھر بھی کتنی اچھی لگتی ہو
ایک دن میں چاند پہ جا کر دیکھوں گا
شاید دور سے دھرتی اچھی لگتی ہو
ان کو ریل کے منظر اچھے لگتے نئیں
جن کو ریل کی پٹڑی اچھی لگتی ہو
ڈگری کر لینا بھی اچھا ہے، پر تم
میری آنکھیں پڑھتی اچھی لگتی ہو
اس کو اردو نئیں آتی تو بات ہی ختم
پھر وہ جتنی مرضی اچھی لگتی ہو
علی ارتضیٰ
No comments:
Post a Comment