Saturday, 3 April 2021

حور ہو یا پری نہیں چلے گی

 حور ہو یا پری، نہیں چلے گی

کہہ دیا نا کوئی نہیں چلے گی

تُو مجھے چاہئے، مجھے بس تُو

دوسری، تیسری نہیں چلے گی

اب تو صحرا بھی ٹوکنے لگا ہے

اتنی وحشت تِری نہیں چلے گی

اس تماشائے رنگ و روغن میں

آپ کی سادگی نہیں چلے گی

تم چلے جاؤ گے، چلے جاؤ

کیا مِری زندگی نہیں چلے گی

یار! تلوار چل رہی ہے یہاں

اس جگہ شاعری نہیں چلے گی

ایک زنجیر نے لپٹ کے کہا

اب سے آوارگی نہیں چلے گی

سر سے پانی گزرنے والا ہے

بھائی اب خامشی نہیں چلے گی

عشق ہے تو ہمارے سر ماتھے

عشق میں دل لگی نہیں چلے گی

ہاتھ میں پھول جیب میں خنجر

اس طرح دوستی نہیں چلے گی


خورشید طلب

No comments:

Post a Comment