جفائیں تھیں پھر بھی سنبھلتا رہا
حکایت کا چہرہ نکھرتا رہا
دِیا انتظاری کا بجھ بھی گیا
مگر دِیپ اس دل کا جلتا رہا
نجانے رُکی رُوح کس موڑ پر
فقط جسم ہی ساتھ چلتا رہا
بھڑکتی رہی آگ احساس کی
جھُلس کے بھی کوئی سنورتا رہا
ابھی تک ہے کیوں اجنبی روشنی
نیا روز سُورج اُبھرتا رہا
عابد عباس کاظمی
No comments:
Post a Comment