Friday, 2 April 2021

حسرت و یاس کہاں دل میں ٹھہرنے والے

 حسرت و یاس کہاں دل میں ٹھہرنے والے

زرد پتے ہیں ہواؤں میں بکھرنے والے

چاند سورج کو ہتھیلی پہ ہماری رکھ دو

اپنے وعدے سے نہیں ہم تو مُکرنے والے

شدتِ کرب کی سُرخی بھی نمایاں کر دیں

خون لمحات کی تصویر میں بھرنے والے

اپنی انکھوں کے چراغوں کو جلائے رکھنا

صبح اُمید کے منظر ہیں اُبھرنے والے

پھر تحفظ کی نگاہوں میں ہے دل کا کعبہ

پھر ابابیل کے لشکر ہیں اُترنے والے

فکر و احساس کے آئینے ذرا چمکا دو

زندگی کے ہیں خط و خال سنورنے والے

پھر کوئی چوٹ مِرے دل کی ہوئی ہے بیدار

پیکرِ صبط کے شیشے ہیں بکھرنے والے


رؤف صادق

No comments:

Post a Comment