Friday, 2 April 2021

بارش میں بھی پیاسا تھا

 بارش میں بھی پیاسا تھا

شاید میرا سپنا تھا

تُو نے ڈھونڈا مقتل میں

میرا مجھ میں لاشہ تھا

آنکھیں میری ڈوب گئیں

کتنا گہرا چہرہ تھا

مجھ سے دور وہ جا کر بھی

میرے پاس ہی رہتا تھا

کوئی مناتا کیوں عابد

میں تو خود سے روٹھا تھا


عابد عباس کاظمی

No comments:

Post a Comment