Friday, 2 April 2021

شیلی بیٹی تجھے جب بھی کوئی دکھ دے

 شیلی بیٹی


تجھے جب بھی کوئی دُکھ دے

اس دُکھ کا نام بیٹی رکھنا

جب میرے سفید بال

تیرے گالوں پہ آن ہنسیں، رو لینا

میرے خواب کے دُکھ پہ سو لینا

جن کھیتوں کو ابھی اُگنا ہے

ان کھیتوں میں

میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی

بس پہلی بار ڈری بیٹی

میں کتنی بار ڈری بیٹی

ابھی پیڑوں میں چھُپے تیرے کماں ہیں بیٹی

میرا جنم تُو ہے بیٹی

اور تیرا جنم تیری بیٹی

تجھے نہلانے کی خواہش میں

میری پوریں خون تھوکتی ہیں


سارا شگفتہ

سارہ شگفتہ

No comments:

Post a Comment