Friday, 2 April 2021

ملال و یاس سے نکلنا ہے

 ملال و یاس سے نکلنا ہے

دُکھ کے احساس سے نکلنا ہے

ایک صحرا عبور کر آیا

اور اب پیاس سے نکلنا ہے

چاند ہے قید شب کے پنجرے میں

مجھے اماس سے نکلنا ہے

عکس سارے ہی بُجھ گئے اب تو

آئینہ قیاس سے نکلنا ہے

ہر ورق پہ ہے خوں کا دھبہ

ایسے اتہاس سے نکلنا ہے


عابد عباس کاظمی

No comments:

Post a Comment