جو روبرو نہ ہوں ان سے کلام کیسے کروں
میں باضمیر ہوں جھک کر سلام کیسے کروں
نبی نہیں ہوں، بشر ہوں خطا تو لازم ہے
میں آدمی ہوں تو سب نیک کام کیسے کروں
ہے تیرے پاس بہت بغض و نفرت و کینہ
میں جائیداد تِری اپنے نام کیسے کروں
ابھی سے اوب گئے رات کے ڈھلنے سے قبل
شروع ہوئے ہیں جو قصے تمام کیسے کروں
مخالفت سے بگڑتی ہے اپنی شخصیت
میں دشمنوں کا مگر احترام کیسے کروں
یہ بات تلخ ہے اس میں مگر صداقت ہے
میں کمترین کو عالی مقام کیسے کروں
مِری نگاہ میں وہ محترم تھا اے قیصر
میں آج اس کا مگر احترام کیسے کروں
امتیاز قیصر
No comments:
Post a Comment