Friday, 2 April 2021

وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو

 وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو

بنایا اس نے کھیون ہار مجھ کو

زباں کی دھار سے دیکھا ملا کر

لگی کچھ تیز کم تلوار مجھ کو

بٹھا رکھا مجھے سائے میں جس نے

گرانی تھی وہی دیوار مجھ کو

جنہیں ہے ناز اپنے فاصلوں پر

پکڑنے دیں ذرا رفتار مجھ کو

کبھی ہوتی نہ پھر لڑنے کی ہمت

ملی اب تک نہ ایسی ہار مجھ کو

کسی نے بھیج کر کاغذ کی کشتی

بلایا ہے سمندر پار مجھ کو

کبھی ڈوبی نہ تیری ناؤ راہی

سکھایا تیرنا بے کار مجھ کو


غلام مرتضیٰ راہی

No comments:

Post a Comment