اب کہاں رائیگاں گزرتی ہے
اپنے جو درمیاں گزرتی ہے
دھرتی جنت دکھائی دیتی ہے
سامنے سے جو ماں گزرتی ہے
حشر برپا ہی کس لیے ہو گا
ہر قیامت یہاں گزرتی ہے
خودکشی روز کرنا پڑتی ہے
عمر ایسے کہاں گزرتی ہے
روز اک شکل دفن ہوتی ہے
روز اک داستاں گزرتی ہے
کیا کہیں جب بہار آتی ہے
ہم پہ کیا کیا خزاں گزرتی ہے
عاصم سلیم
No comments:
Post a Comment