Monday, 20 December 2021

اب کہاں رائیگاں گزرتی ہے

 اب کہاں رائیگاں گزرتی ہے

اپنے جو درمیاں گزرتی ہے

دھرتی جنت دکھائی دیتی ہے

سامنے سے جو ماں گزرتی ہے

حشر برپا ہی کس لیے ہو گا

ہر قیامت یہاں گزرتی ہے

خودکشی روز کرنا پڑتی ہے

عمر ایسے کہاں گزرتی ہے

روز اک شکل دفن ہوتی ہے

روز اک داستاں گزرتی ہے

کیا کہیں جب بہار آتی ہے

ہم پہ کیا کیا خزاں گزرتی ہے


عاصم سلیم

No comments:

Post a Comment