تم ہو نا
کہا، خوش بخت ہوں میں کہ مِرے جیون میں تم ہو نا
مِری آنکھوں، مِری سانسوں، مِری دھڑکن میں تم ہو نا
کہا، جگ سے نہیں مجھ کو ذرا رغبت کہ تم ہو نا
مِری دولت، مِری قسمت، مِری چاہت کہ تم ہو نا
تھکا مجھ کو نہیں سکتا کوئی بھی غم کہ تم ہو نا
مِری پلکیں کبھی ہوں گی نہیں پُرنم کہ تم ہو نا
کہا، معلوم ہے کتنے ہی بندھن ٹوٹ جائیں گے
کہا، معلوم ہے کتنے ہی اپنے روٹھ جائیں گے
کہا، اتنا ہی کافی ہے مِرے ہمدم کہ تم ہو نا
جھکا مجھ کو نہیں سکتی کبھی رسمیں کہ تم ہو نا
میں پوری کر دکھاؤں گا سبھی قسمیں کہ تم ہو نا
کہا، تم ہو تو جیون کے سبھی رستے سنور جائیں
کہا، تم ہو تو پھولوں کے حسیں موسم ٹھہر جائیں
کہا، تم ہو تو چاہت کی حدوں سے ہم گزر جائیں
کہا، تم ہو تو قربت کے سبھی لمحے نکھر جائیں
تمہارے بن تو ہر لمحہ سزا معلوم ہوتا تھا
تمہارے بن مقدر بھی خفا معلوم ہوتا تھا
تمہارے بن تو یہ جیون خطا معلوم ہوتا تھا
تمہارے بن تو جینا بد دعا معلوم ہوتا تھا
ملے جو تم تو سب موسم سہانے ہو گئے میرے
ملے جو تم تو سچ سارے فسانے ہو گئے میرے
ملے جو تم تو خوشیوں کے خزانے ہو گئے میرے
ملے جو تم تو جانِ جاں زمانے ہو گئے میرے
کہا میں کیوں نہ مسکاؤں مِری مسکان تم ہو نا
کہا، میں کیوں نہ اتراؤں مِرا ایقان تم ہو نا
کہا میں کیوں نہ اٹھلاؤں مِرا ہر مان تم ہو نا
کہا میں کیوں نہ یہ گاؤں مِری جند جان تم ہو نا
خدا نے تیرے ماتھے پر مِری تقدیر لکھ دی ہے
تِری نسبت سے دیکھے خواب کی تعبیر لکھ دی ہے
تجھے دے کر،مری قسمت میں یہ توقیر لکھ دی ہے
ازل سے دل کی تختی پر یہی تحریر لکھ دی ہے
وفا کے جس قدر بندھن ہیں ہر بندھن میں تم ہو نا
مِرے احساس کے کھلتے ہوئے گلشن میں تم ہو نا
مِری سوچوں، مِرے اشعار کے درپن میں تم ہو نا
مِری پلکوں پہ سپنوں کی حسیں چلمن میں تم ہو نا
عاشر وکیل
No comments:
Post a Comment