Friday, 21 January 2022

میں کہہ رہا ہوں سر عام برملا بابا

 میں کہہ رہا ہوں سر عام برملا بابا

گمان ہے بھرے میلے میں کھو گیا بابا

کڑی ہے دھوپ تمازت سے پاؤں جلتے ہیں

جو سائبان سروں پر تھا کیا ہوا بابا

ذرا سی بات پہ آنکھیں برسنے لگتی ہیں

کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں گا حوصلہ بابا

تمہارے بعد تو لمحے نہیں گزرتے ہیں

ابھی تو عمر کا باقی ہے مرحلہ بابا

بس ایک عمر بچی ہے تمہاری یاد لیے

اب اپنے پاس بچا بھی ہے اور کیا بابا

رکی جو سانس تمہاری بدل گئی دنیا

کہاں وہ ربط کسی سے جو پہلے تھا بابا

میں تین پہر سے بیٹھا ہوا ہوں قبر کے پاس

اب اپنے کرب سمیٹو کہ میں چلا بابا

اگر ستایا زمانے نے زہر کھا لوں گا

تمہارا بیٹا ہے اشرف بھی سر پھرا بابا


اشرف علی

No comments:

Post a Comment