زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے
ادھر خنجر، ادھر آری پڑی ہے
میرے ہی سر پہ ہیں الزام سارے
بڑی مہنگی وفاداری پڑی ہے
عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں
ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے
بچھڑ کر ہو گیا برباد وہ بھی
ہمیں بھی چوٹ یہ کاری پڑی ہے
سمندر سے کوئی رشتہ ہے اس کا
ندی کس واسطے کھاری پڑی ہے
اشفاق منصوری
No comments:
Post a Comment