اس کی آمد کے لیے خود کو ترستا دیکھنا
ہائے حسرت سے تِرا پردے کو ہلتا دیکھنا
روز تیری کھوج میں پھرنا مِرا یوں در بدر
روز اپنے سائے کو باہر بھٹکتا دیکھنا
ہے بدل جاتا یہ لہجہ روز میری آنکھ کا
آنکھ کا دریا وہ چڑھتا اور اترتا دیکھنا
ڈھے نہ جائے گھر تِرا جاناں زرا رکھنا خیال
میری آنکھوں سے مِرا ساون برستا دیکھنا
کوکی کا یہ دل کہاں رہ پائے گا اب تیرے بن
دل مِرا خود کے لیے پھر سے مچلتا دیکھنا
کوکی گل
No comments:
Post a Comment