Friday, 21 January 2022

اس کی آمد کے لیے خود کو ترستا دیکھنا

 اس کی آمد کے لیے خود کو ترستا دیکھنا

ہائے حسرت سے تِرا پردے کو ہلتا دیکھنا

روز تیری کھوج میں پھرنا مِرا یوں در بدر

روز اپنے سائے کو باہر بھٹکتا دیکھنا

ہے بدل جاتا یہ لہجہ روز میری آنکھ کا

آنکھ کا دریا وہ چڑھتا اور اترتا دیکھنا

ڈھے نہ جائے گھر تِرا جاناں زرا رکھنا خیال

میری آنکھوں سے مِرا ساون برستا دیکھنا

کوکی کا یہ دل کہاں رہ پائے گا اب تیرے بن

دل مِرا خود کے لیے پھر سے مچلتا دیکھنا


کوکی گل

No comments:

Post a Comment