Tuesday, 16 March 2021

جسم نہیں وہ روح کو گھیرے ہوتے ہیں

 جسم نہیں وہ روح کو گھیرے ہوتے ہیں

کچھ نادیدہ ایسے پنجرے ہوتے ہیں 

بینائی کی اس میں کوئی شرط نہیں

اندھی آنکھوں میں بھی سپنے ہوتے ہیں

بک جاتے ہیں بس دو میٹھے بولوں میں

سادہ دل بھی کتنے سستے ہوتے ہیں

رات گئے تک محفل اپنی جمتی ہے 

سارے ابن الوقت اکٹھے ہوتے ہیں 

جس کو لفظوں کا ساحر میں کہتا تھا

اس کی باتوں میں اب ہندسے ہوتے ہیں

اتنا ہی احساس بڑھے تنہائی کا

گھر میں جتنے زیادہ کمرے ہوتے ہیں

کچھ لوگوں کی محرومی پہ کیا لکھوں

چہرے جیسے قبر کے کتبے ہوتے ہیں


عاشر وکیل

No comments:

Post a Comment