جسم نہیں وہ روح کو گھیرے ہوتے ہیں
کچھ نادیدہ ایسے پنجرے ہوتے ہیں
بینائی کی اس میں کوئی شرط نہیں
اندھی آنکھوں میں بھی سپنے ہوتے ہیں
بک جاتے ہیں بس دو میٹھے بولوں میں
سادہ دل بھی کتنے سستے ہوتے ہیں
رات گئے تک محفل اپنی جمتی ہے
سارے ابن الوقت اکٹھے ہوتے ہیں
جس کو لفظوں کا ساحر میں کہتا تھا
اس کی باتوں میں اب ہندسے ہوتے ہیں
اتنا ہی احساس بڑھے تنہائی کا
گھر میں جتنے زیادہ کمرے ہوتے ہیں
کچھ لوگوں کی محرومی پہ کیا لکھوں
چہرے جیسے قبر کے کتبے ہوتے ہیں
عاشر وکیل
No comments:
Post a Comment