Tuesday, 16 March 2021

پھیلتا جاتا ہے دریا کا کنارہ کافی

 پھیلتا جاتا ہے دریا کا کنارہ کافی

میری مٹی ابھی سہنا ہے خسارہ کافی

کُھل کے ہوتی نہیں ہر بات بتانے والی

صاحبِ فہم کو ہوتا ہے اِشارہ کافی

کہکشاؤں پہ تسلط کی ہوس میں گُم ہے

ذرۂ خاک کو تھا ایک ستارہ کافی

اور بھر لیں گے اب اس جسم میں کتنی سانسیں

پہلے ہی پُھول چکا ہے یہ غبارہ کافی

فاصلے بڑھتے گئے عمر کی رفتار کے ساتھ

ورنہ غیروں کو بھی لگتا تھا میں پیارا کافی

ذکر اذکار،۔ بدل لمس کا کب تھے، لیکن

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا کافی

کوئی امید بھی ہو ہاتھ پکڑنے والی

بچ نکلنے کو نہیں صرف کنارہ کافی

خوش قدم ہو کے بھی کیا تجھ سے تقابل ہوتا

باقی چلنے کو ہے ٹوٹا یہ سہارا کافی

حملہ آور ہوئے غم صورت لشکر، لیکن

ضبط کا صرف رہا ایک ہی نعرہ کافی

کچھ بھی سُننے نہ دیا شورِ گماں نے احمد

ایک امکان بچارے نے پکارا کافی


حبیب احمد 

No comments:

Post a Comment