Tuesday, 16 March 2021

آنکھوں میں برسات بھی ہے

 آنکھوں میں برسات بھی ہے

کرنی دل کی بات بھی ہے

اپنے آپ کو پہچانوں تو

راہ میں تیری ذات بھی ہے

تیرے وصل کے ہر لمحے تک

تیرے ہجر کی گھات بھی ہے

اس بے درد کے ہجراں کی

پاس اپنے سوغات بھی ہے

تُو ہے دن کی مثل مُراد

دن سے پہلے رات بھی ہے


علی مراد

No comments:

Post a Comment