اچھے نصیب رب کرے اس خوش جمال کے
کاٹے تھے جس نے ساتھ مِرے دن ملال کے
کل جا رہی تھی زندگی گیسُو کھُلے ہوئے
ہم بھی گلے میں چل پڑے بانہوں کو ڈال کے
میں دیکھتا ہوں خواب میں ہر شب بلیک ہول
میں دیکھتا ہوں جلتے ہیں پُتلے خیال کے
خانہ بدوش چل پڑا ہے گاؤں چھوڑ کر
روتی ہے ایک باؤلی گھونگھٹ نکال کے
ہو کوئی جو عناصرِ سالار سے کہے
تُو شاعروں کو بھیج ذرا دیکھ بھال کے
ہوتا نہیں فقیر کبھی عمر بھر وہ سیف
جس آدمی نے رکھے ہوں رشتے سنبھال کے
سیف خان
No comments:
Post a Comment