زندگی اک نصاب ہے بابا
عمر بھر کا عذاب ہے بابا
روح میں درد یوں سمویا ہے
روز و شب اضطراب ہے بابا
بے وفا تو چلے ہی جاتے ہیں
تیرا جانا عذاب ہے بابا
تُو نے ایسا سوال پوچھا ہے
جس کا الجھا جواب ہے بابا
میری آنکھوں میں بس گیا ہے چمن
تیرا چہرہ گلاب ہے بابا
سلیمان جاذب
No comments:
Post a Comment