Tuesday, 16 March 2021

زندگی اک نصاب ہے بابا

 زندگی اک نصاب ہے بابا

عمر بھر کا عذاب ہے بابا

روح میں درد یوں سمویا ہے

روز و شب اضطراب ہے بابا

بے وفا تو چلے ہی جاتے ہیں

تیرا جانا عذاب ہے بابا

تُو نے ایسا سوال پوچھا ہے

جس کا الجھا جواب ہے بابا

میری آنکھوں میں بس گیا ہے چمن

تیرا چہرہ گلاب ہے بابا​


سلیمان جاذب

No comments:

Post a Comment