اپنے دل کی ایک اک حسرت کو گِروی رکھ دیا
جب محبت کی تو ہر راحت کو گروی رکھ دیا
آدمی کے نام پر دھبہ ہے وہ، جس نے یہاں
خوف کھا کر کُفر سے مِلت کو گروی رکھ دیا
اپنی خواہش کا جہنم بھرتے بھرتے دوستو
ہم نے تو اسلاف کی جنت کو گروی رکھ دیا
بھیک کی بیساکھیوں کے شوق نے اس قوم کا
سر جُھکا ڈالا ہے اور عظمت کو گروی رکھ دیا
پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے عاشر یہاں
کتنی دوشیزاؤں نے عصمت کو گروی رکھ دیا
عاشر وکیل
No comments:
Post a Comment