Tuesday, 21 December 2021

چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں

 چُرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں

ابھی تو فیصلہ ہوتا ہے ایک ساغر🍷 پر

مریضِِ عشق کی حالت کبھی نہ سنبھلے گی

مجھے تو چھوڑ دے اے چارہ گر! مقدر پر

ہمارے نالے بھی تھک تھک کے اب تو بیٹھ رہے

گئے وہ دن، کہ اٹھاتے تھے آسماں سر پر

ہمارے مے کدہ کو چھوڑ کر نہ جا زاہد

ملے گا قطرہ نہ کمبخت حوضِِ کوثر پر

گِلہ نہ ہم نے کِیا شوق اس سِتمگر سے

بلائیں سب وہ اٹھائیں جو آ پڑیں سر پر


رینا شوق

پنڈت جگموہن ناتھ

No comments:

Post a Comment