Tuesday, 21 December 2021

ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا

 ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا

اہلِ ہوس کے بِکنے کی رفتار دیکھنا

ہوں گے ستم کے ہاتھوں گرفتار بے گناہ

توہینِ عدل بر سرِ دربار دیکھنا

تاریخ اپنے خون سے لکھیں گے پھر ہمِیں

پیدا ہوئے ہیں پھر وہی آثار دیکھنا

میرے وطن کی آن پہ آنے نہ دے گا آنچ

کوئی تو ہو گا صاحبِ کردار دیکھنا

دِکھلائے گا یہ وقت کرشمے نئے نئے

انسان کو پرکھنے کا معیار دیکھنا

ہم چاہتے ہیں بزم میں ایسی جگہ ملے

ممکن ہو تیری سمت لگاتار دیکھنا

حق بات کہہ گئی ہے بھری بزم میں غزل

اس دور میں یہ جرأتِ اظہار دیکھنا


غزل جعفری

No comments:

Post a Comment