Wednesday, 13 January 2021

تمہاری محبت اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے

 تمہاری محبت

اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے

صبح بارش ہو رہی تھی

جو تمہیں اداس کر دیتی ہے

اس منظر کو لا زوال بننے کا حق تھا

اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے

تمہیں ایک محاصرے میں آئے دل کی یاد نہیں آئی

ایک گمنام پل پر

تم نے اپنے آپ سے مضبوط لہجے میں کہا

مجھے اکیلے رہنا ہے

محبت کو تم نے

حیرت زدہ کر دینے والی خوش قسمتی نہیں سمجھا

میری قسمت جہاز رانی کے کارخانے میں نہیں بنی

پھر بھی میں نے سمندر کے فاصلے طے کیے

پر اسرار طور پر خود کو زندہ رکھا

اور بے رحمی سے شاعری کی

میرے پاس ایک محبت کرنے والے کی

تمام خامیاں

اور آخری دلیل ہے


افضال احمد سید

No comments:

Post a Comment