رزمیہ/ملی کلام
دھرتی ماں ہم تیرے بیٹے
سروں پہ اپنے کفن لپیٹے
ہر مشکل سر کرسکتے ہیں
دنیا بھر کی سب خوشیوں سے
تیرا دامن بھر سکتے ہیں
تیری خاطر جی سکتے ہیں
تیری خاطر مر سکتے ہیں
پتھریلے سنگلاخ دلوں میں
امن کے پھول کھلا سکتے ہیں
جھرنوں کی مترنم لہ پر
پیار کے گیت سنا سکتے ہیں
ہم تیرے جانباز مجاہد
یم تیرے پر عظم سپاہی
ہم اجلی صبح کے سورج
ہم راتوں کے نور اجالے
شبنم کے رخساروں جیسے
روشن چاند ستاروں جیسے
محنت کش دہقان بھی ہیں ہم
بستے نخلستان بھی ہیں ہم
پاک وطن ہم تیری خاطر
ہر قربانی دے سکتے ہیں
ظلم کے آگے جبر کے آگے
جھک نہیں سکتے کٹ سکتے ہیں
طاقت ور دشمن کے آگے
سینہ تان کے ڈٹ سکتے ہیں
دھرتی ماں ہم تیرے بیٹے
تیری گود میں پلنے والے
اس مٹی پر چلنے والے
اس مٹی میں مل سکتے ہیں
پھر شاخوں پہ کھل سکتے ہیں
مسعود احمد اوکاڑوی
No comments:
Post a Comment