Sunday, 19 December 2021

زباں محو ثنا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


زباں محو ثناء ہے گنبدِ خضرا کے سائے میں

مؤدب التجا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

ہم اپنا دامنِ مقصود بھر لائے مرادوں سے

ہمیں سب کچھ ملا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

کلام پاک دیتا ہے گواہی اس حقیقت کی

مقدر جاگتا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

ملے گا حشر کے دن بھی وہ میزانِ محبت پر

وہ آنسو جو گِرا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

اگر سینے میں ہوتا تو دھڑکنے کی صدا آتی

یہ دل کھویا ہوا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

کبھی خود کو کبھی اُنؐ کے کرم کو دیکھتا ہوں میں

کہ مجھ سا بے نوا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

سمجھتا ہے خموشی کی زباں اُنﷺ کا کرم خالد 

خموشی بھی صدا ہے گنبد خضرا کے سائے میں


خالد محمود خالد

خالد محمود نقشبندی

No comments:

Post a Comment