ہم آزاد ہیں
ہم نظم نگار ہیں
ہم نے بڑی تگ و دو کے بعد آزادی حاصل کی ہے
اب ہمیں اس آزادی کو مستحکم کرنا ہے
کوئی نقّاد ہمارا راستہ نہ روکے
کوئی ہماری پیش قدمی نہ روکے
ہم نظم نگار ہیں
ہم نے اپنی اقلیم کو وسعت دینے کا ارادہ کر لیا ہے
کوئی اسے تجاوزات نہ سمجھے
ہم جہاں چاہیں گے خیمہ زن ہوں گے
نظم کا کتبہ نصب کریں گے
اختصار، جامعیت، غنائیت، تاثیریت اور شعری جمالیات کے تقاضے
ہمارے بڑھتے قدموں کو نہیں روک سکتے
ہم نظم لکھیں گے
چوہے کے پیچھے دوڑ دوڑ کر بلّی ہانپ چکی ہے
چھپکلی دیوار سے چمٹی بلی کا تماشہ دیکھ رہی ہے
بلّی نظم ہے
اس کی بھاگ دوڑ نظم ہے
چھپکلی بھی نظم ہے
ان کے اپنے دُکھ ہیں
ہم یہ دُکھ بیان کریں گے
چاہے نظم کتنی ہی طویل، بد مزہ اور بد ہیئت ہو جائے
ہم گلی میں بے سُدھ پڑے رات بھر جاگتے کتے کی کتھا لکھیں گے
جو اب سرما کی دھوپ کا مزہ لے رہا ہے
ہم مُردار پر با جماعت حملہ آور گِدھوں کی اچھل کود
اور کوؤں کی دور بیٹھے
اپنی باری کا انتظار کرنے کی کیفیت نظم کریں گے
ہماری نظموں کا قاری ابھی پیدا نہیں ہوا
شاعری پڑھنے والوں کو اگر ہماری نظمیں سمجھنے میں دشواری ہے
تو وہ اپنے فہم کو ترقی دیں
ہم نظم نگار ہیں
ہمارا کام نظم لکھنا ہے
ہم کچھ نہیں چھپائیں گے، سب پردے چاک کریں گے
تہذیب کے پرستار
ہماری نظموں کے قاری نہیں ہو سکتے
ہم نظم نگار ہیں
ہم آزاد ہیں
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment