دیکھ لو جان سے گزر کے بھی
ہم نے چاہا ہے تم کو مر کے بھی
ہم ہی مقتل کی سمت چل نکلے
راستے تھے بہت مفر کے بھی
کچھ تو پتوار نہ میسر تھے
تھے ستارے سیہ سفر کے بھی
کس قدر سرخرو وہ پھرتا ہے
اپنا الزام مجھ پہ دھر کے بھی
آنکھ تک ہی ہنوز ٹھہرا ہے
رنگِ وحشت مِرا بکھر کے بھی
ثانیہ شیخ
No comments:
Post a Comment