Saturday, 24 July 2021

دیکھ لو جان سے گزر کے بھی

 دیکھ لو جان سے گزر کے بھی

ہم نے چاہا ہے تم کو مر کے بھی

ہم ہی مقتل کی سمت چل نکلے

راستے تھے بہت مفر کے بھی

کچھ تو پتوار نہ میسر تھے

تھے ستارے سیہ سفر کے بھی

کس قدر سرخرو وہ پھرتا ہے

اپنا الزام مجھ پہ دھر کے بھی

آنکھ تک ہی ہنوز ٹھہرا ہے

رنگِ وحشت مِرا بکھر کے بھی


ثانیہ شیخ

No comments:

Post a Comment