چیخ
دل ڈرا سہما سا ہے
ڈر کی عقوبت میں ٹھہرا سا ہے
موت کی خبروں کا گھیرا ہے
دنیا کے گرد عجب پھیرا ہے
دنیا خود میں سمٹ رہی ہے
رابطے سارے موت نگل رہی ہے
کوئی نہیں ہے اب کسی کا
ہر کسی کو اپنی پڑی ہے
مکتبِ فکر بھی فکر میں ڈوبا ہے
فن و سائنس میں تضاد بڑا گہرا ہے
سازش ہے کہ حملہ ہے؟
اللہ کی جانب سے بھیجا گیا
کوئی عذاب کا پرندہ ہے؟
جو کرونا بھی ہے اور ڈراؤنا بھی ہے
نگل رہا ہے انسانیت کو
اور بھر رہا ہے زمیں کی گود کو
ہر نفس ایک چیخ بن کر
کراہ رہا ہے
نسل اور رنگ میں تفریق کیے بنا
یہ کائنات سے حیات کو مٹا رہا ہے
تاریخ کا عجب پھیلاؤ ہے
کہ دنیا بھر سے
موت کی خبروں کا گراف
مسلسل بڑھ رہا ہے
زندگی سسکتی بلکتی
وینٹی لیٹر پر پڑی ہے
اپنوں کی نفسانفسی بھی کڑی ہے
جیسے پیچھے مُڑ کر ان کو چھُوئیں
تو موت تیار کھڑی ہے
جانتی ہوں میں
سائنس، ڈی این اے اور جِین کے
اس طلسماتی دور میں
کل تک انسان کے بس میں سب ہو گا
ویکسین بنانے کی دوڑ میں
وائرس کو قابو کرنے میں
یقیناً کوئی ایک بازی گر ہو گا
غم کی سیاہ رات ڈھلے گی
سکون کا سورج طلوع ہو گا
استغفار اور عبادتوں کو
خراج ملے گا
مگر جب فیصلہ کُن ہو گا
تب میرے رب کا کرم ہو گا
تب میرے رب کا کرم ہو گا
ارم زہرا
No comments:
Post a Comment