Monday, 19 April 2021

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

 ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

مگر کوئی بہانہ چاہیے تھا

محبت ریل کی پٹری نہیں تھی

کہیں تو موڑ آنا چاہیے تھا

تِرے کاندھے پہ رکھ کر سر کسی دن 

ہمیں بھی بھُول جانا چاہیے تھا 

مِری لغزش خدا سے کیوں شکایت

ارے مجھ کو بتانا چاہیے تھا

یہ تم نے خود کو پتھر کر لیا کیوں

مِری جاں ٹوٹ جانا چاہیے تھا

ہمی کیا توڑتے ساری خموشی

تمہیں بھی گنگنانا چاہیے تھا


عاصمہ طاہر

No comments:

Post a Comment