Monday, 19 April 2021

تیرگی میں دیا جلاتے ہوئے

 تیرگی میں دِیا جلاتے ہوئے

کوئی گزرا ہے مسکراتے ہوئے

آئینے سے یہ ہی تعلق ہے

دیکھ لیتی ہوں آتے جاتے ہوئے

کیا کروں خُود پہ اختیار نہیں

یاد آتا ہے وہ بُھلاتے ہوئے

سوچ لینا یہ کام اچھی طرح

رابطے اس قدر بڑھاتے ہوئے

بھُول جاتے ہیں دُھوپ کی شدت

لوگ اشجار کو گراتے ہوئے

کاش پہنچوں وفا کی منزل تک

اپنے ہر عہد کو بنھاتے ہوئے

رو پڑا وہ بھی ٹُوٹ کر آخر

تھک گیا جب مجھے ہنساتے ہوئے


ثناء احمد

No comments:

Post a Comment