Monday, 19 April 2021

سدا رہیں سرکار سلامت

 سوالی


سدا رہیں سرکار سلامت

خیر ہو اونچے چوباروں کی

منصب اور دستار سلامت

صاحب پھیلے ہاتھوں کی

گانٹھوں میں گندھی ہے

جیون بھر کی کمائی

لمبی اور کڑی تنہائی

بنجر، خشک، سوالی آنکھیں

رنگ اڑاتی چھاؤں کی جانب

اک حسرت سے دیکھ رہی ہیں

بھرے رہیں خوابوں کے خزانے

بس اک نیند کا جادو

دو لفظوں کی تلچھٹ

باقی کچھ درکار نہیں ہے

تب پھر

کاہے ایسی گھاؤ لگاتی

نظروں سے چھُوتے ہیں

چھلنی تن کو

قسمت داؤ چلے تو

کیسے کیسے روشن تارے

ریزہ ریزہ کھو جاتے ہیں

وقت کڑا ہو تو

آنگن کی کلیاں

باغ کے غُنچے

مٹی ہو جاتے ہیں

ہم تو پھر بھی

ہم تو

آپ بھی

کاہے روح پہ زخم لگاتی

باتیں ڈھونڈ کے لے آتے ہیں

اور ہم پھر بھی

سینچ سینچ کر دھرتی

دو دانوں کی خاطر

کتنی جان لگا دیتے ہیں

دو پل کی

چاہت کے مارے

دو میٹھے بولوں کے پیاسے

ہم کسی گلے کا ہار نہیں ہیں

ہارے ہوئے

ٹھُکرائے ہوئے ہیں

صاحب ہم

بدکار نہیں ہیں


گلناز کوثر

No comments:

Post a Comment