جاتی رُت نے سندیسہ دیا ہے
دیکھ سورج سے دیپک بڑا ہے
دونوں پلڑے برابر بھرے ہیں
چاند سورج سفر کر رہے ہیں
تُو نے موسم بنا تو دئیے ہیں
جنگلوں کے عجب راستے ہیں
کوئی سمجھے تو بس یہ ہوا ہے
ایک دیپک سے سب کچھ بنا ہے
پیڑ سے کیا پوَن کا ہے ناتا
سیس تیرے نواتے ہیں داتا
کھنکھناتا ہے مٹی میں کنچن
ٹھیکروں میں بَلا کا ہے جوبن
ڈر ہے مَن پہ لگا دے نہ تالے
کر دَیا ہم پہ مرجان والے
پھول مجھ سے بھی آگے گیا ہے
اس کو مایا نگر کا پتہ ہے
میٹھے کھارے کا بے جوڑ دھارا
ہے ندی خود ندی کا کنارا
پھول پھل کو پرت دینے والے
بولنے کی سکت دینے والے
تیرے کہنے سے کب سچ کہیں گے
ہم تو جھُوٹے ہیں جھُوٹے رہیں گے
نگار صہبائی
No comments:
Post a Comment