غرور
اگر تم مجھے ایک برقعہ پہنا کر مجھ ڈھانپنا چاہو
تو
کیا میری چھاتیوں کا غرور
تمہاری آنکھوں سے چھُپ جائے گا
اگر تم مجھے دو برقعے پہنا دو
یہ غرور پھر بھی تمہاری نظروں سے چھُپ نہیں سکے گا
چلو، پہناتے جاؤ مجھے
تلے اوپر بہت سے لبادے
اور چھوڑ دو میری آنکھیں صرف یہ دیکھنے کے لیے
کہ تمہاری آنکھیں اب کیا دیکھ رہی ہیں
مجھے یقین ہے
تم میری چھاتیوں کے غرور کو ڈھونڈ رہے ہو گے
تلے اوپر لدے ہوئے
میرا جسم چھپانے والے کپڑوں کے اوپر
تمہاری بِینائی کے سکرین وِنڈ پر پانی کے قطرے
چھپاکے مار رہے ہوں گے
اور میری غرور سے بھری چھاتیاں
تمہاری شکست پر
کبھی نا ختم ہونے والے غرورسے بھری
مسکرا رہی ہوں گی
عذرا عباس
No comments:
Post a Comment