Monday, 19 April 2021

سر صحرا قیام کرتے ہیں

 سرِ صحرا قیام کرتے ہیں

تشنگی کو امام کرتے ہیں

میرے ہاتھوں پہ آ کے بیعت کر

جیسے ازلی غلام کرتے ہیں

قرض ہے مجھ پہ احترام ان کا

جو مِرا احترام کرتے ہیں

رکھ رکھاؤ کے ساتھ شام ڈھلے

زخم مجھ سے کلام کرتے ہیں

دستخط خونِ دل سے کروا لے

زندگی تیرے نام کرتے ہیں

صرف تم تو نہیں مِرے دل میں

رفتگاں بھی قیام کرتے ہیں

میں مروّت سمجھنے لگتی ہوں

لوگ رسماً سلام کرتے ہیں

ہجر دوہری اذیتوں کا سفر

ہم ہما صبح و شام کرتے ہیں


ہما شاہ

No comments:

Post a Comment