Saturday, 9 October 2021

دلیل محبت سنا تھا ہم نے لوگوں سے محبت چیز ایسی ہے

 دلیلِ محبت


سنا تھا ہم نے لوگوں سے

محبت چیز ایسی ہے

چھپائے چھپ نہیں سکتی

یہ آنکھوں میں چمکتی ہے

یہ چہروں پر دمکتی ہے

یہ لہجوں میں جھلکتی ہے

دلوں تک کو گھلاتی ہے

لہو ایندھن بناتی ہے

اگر سچ ہے تو پھر آخر ہمیں

اس ذاتِ حق سے یہ بھلا کیسی محبت ہے

نہ آنکھوں سے چھلکتی ہے

نہ چہروں پر ٹپکتی ہے

نہ لہجوں میں سُلگتی ہے

دلوں کو آزماتی ہے نہ راتوں کو رُلاتی ہے

کلیجے منہ کو لاتی ہے نہ فاقوں ہی ستاتی ہے

نہ خاک آلود کرتی اور نہ کانٹوں پر چلاتی ہے

نہ یہ مجنوں بناتی ہے

عجب ایسی محبت ہے

(فقط دعویٰ سجھاتی ہے)

نہ کعبے کی گلی میں تن پہ انگارے بُجھاتی ہے

نہ غارِ ثور میں چُپکے سکینت بن کے چھاتی ہے

حرا تک لے بھی جائے، قُدس سے نظریں چُراتی ہے

ہم اپنے دعویٰٔ حقِ محبت پر ہوئے نادم

تو پلکوں کے کناروں سے جھڑی سی لگ گئی اور پھر

کہیں سے بجلیاں کوندیں

صدا آئی

ذرا اس آنکھ کی بندش کے دم بھر منتظر رہنا

وہاں خود جان جاؤ گے

محبت کی حقیقت کو


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment