ہر شے کہاں لگائی ہے بکنے کے واسطے
کچھ کو رکھا گیا یہاں سجنے کے واسطے
چھوڑا کہاں؟ رقیب کو تحفے میں دے دیا
اتنے جتن کیے جسے رکھنے کے واسطے
ہر رُت اسے گلے سے لگا کر چھلک پڑی
گھر میں جو پیڑ لگ گیا کٹنے کے واسطے
مجھ کو عجیب شہر میں رہنا ہوا نصیب
ہر شخص مر گیا جہاں جینے کے واسطے
پہلے اُگایا پُھول کوئی لمس کے لیے
پھر لب کو راستہ کیا دھرنے کے واسطے
میری گھڑی میں وقت کا کانٹا رُکا رہا
ورنہ بہت سے کام تھے کرنے کے واسطے
کتنا مہذبانہ طریقہ تھا سوچ کا
بیٹھے تھے ایک رو میں وہ لڑنے کے واسطے
فاطمہ مہرو
No comments:
Post a Comment