عورتوں کا خدا
اب تو آ جا خدا
لوگ کہنے لگے ہیں
عورتوں کا خُدا ہی نہیں ہے
نارسائی کی بدبو
بے وفائی پہ مبنی تعفّن کی لہریں
بے حیائی کے کیچڑ
ایسے بد نام جوہڑ کہ جن میں کھلا ہے یہ عورت کا پھول
“تیرے ایسے جہاں میں ”گنہگار ہم عورتیں
تیرے ویسے جہاں میں ”تُحفۂ جنت“ بھی ہم عورتیں
ہم کہانی میں گندم، کہیں سیب اور اب تو انگور بھی
ہم خمیدہ بھی، کڑوی بھی، رنجور بھی
خُدایا! کھول دے اب زمانے کی آنکھوں کی پٹی
اُتر آ زمینوں کے جائز خدا
تیرے اپنے بنائے خداؤں نے عورت کو کافر کیا
تُو ازل سے ابد کے تماشے کو چھوڑ
جو تماشہ یہاں بیٹیوں پہ لگا
دیکھنے ہی چلا آ
تُو حوالوں میں اترا تھا مریم، زلیخا کے اور اماں حوا کے
اب کہاں سو گیا اے خُدا تجھ کو کیا ہو گیا
تُو تو محرم ہے مابین نامحرموں کے
مانگ لی ہے زمانے نے مجھ سے سند
لوگ کہنے لگے ہیں
عورتوں کا خدا ہی نہیں ہے
فاطمہ مہرو
No comments:
Post a Comment